Monday, 13 August 2018

نوکری کو لات مار کر خوبصورتی کی تلاش

نوکری کو لات مار کر خوبصورتی کی تلاش

رومانیہ سے تعلق رکھنے والی فوٹوگرافر ماہیلا نوروک نے اپنی ملازمت کو لات ماری اور دنیا گھومنے نکل پڑیں۔
اس وقت سے اب تک وہ انٹارکٹیکا کے سوا دنیا کے تمام براعظموں کے 60 ممالک میں سینکڑوں خواتین کی تصاویر لے چکی ہیں اور اپنے اس پراجیکٹ کو انہوں نے اٹلس آف بیوٹی کا نام دیا ہے۔
ان کے بقول " میرے خیال میں ہماری دنیا کو خوبصورتی کے نقشے کی ضرورت ہے تاکہ جان سکیں کہ دنیا کتنی پرتنوع ہے، مجھے توقع ہے کہ اس پراجیکٹ میں شامل تصاویر دنیا بھر میں موجود متعدد غلط تصورات کو چیلنج کرسکیں گی"۔
یہ فوٹوگرافر پانچ زبانوں میں مہارت رکھتی ہیں جو انہوں نے تصاویر لینے میں مدد دیتا ہے، ابھی بھی ان کا سفر جاری ہے اور 2017 میں ان کی ان تصاویر پر مبنی کتاب بھی شائع ہوچکی ہے۔
یہاں ان کے کام کے دوران جمع کی جانے والی تصاویر کو دیا جارہا ہے۔

تبت

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
چین کی اس ریاست سے تعلق رکھنے والی اس خاتون کی تصویر فوٹوگرافر نے 2015 میں کھینچی تھی۔

یوکرائن

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
اولگا اور انایا نامی یہ لڑکیاں جڑوں بہنیں ہیں جو یوکرائن کے علاقے اوڈیسا سے تعلق رکھتی ہیں، یہ دونوں زندہ مجسموں کے طور پر کام کرتی ہیں جس کا نظارہ آپ تصویر میں دیکھ سکتے ہیں۔

اوڈیسا

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
یوکرائن کے اسی شہر سے تعلق رکھنے والی یہ لڑکی گیارہ سال کی عمر سے کام کرنے پر مجبور ہے جس کی وجہ خاندان کی غربت اور تعلیم کا شوق ہے اور اس طرح کی مشکل صورتحال میں پھنس کر مایوس ہوجانے والے دیگر افراد کے برعکس وہ ابھرنے کا عزم رکھتی ہیں۔

پرتگال

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
لزبن، پرتگال سے تعلق رکھنے والی یہ خاتون اپنے شہر کی گلیوں میں گھوم کر وہاں بسنے والے مختلف النوع ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی زندگیوں کے رنگ دیکھنا پسند کرتی ہیں۔

مقدونیہ

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
یورپی ملک مقدونیہ سے تعلق رکھنے والی خاتون بچپن میں ایک ٹریفک حادثے میں معذور ہوگئی تھیں، مگر پندرہ سال بعد بھی وہ اندر سے مضبوط ہیں اور اس طرح کے خوفناک حادثات کی روک تھام کے لیے کام کررہی ہیں۔

اردن

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
عمان، اردن سے تعلق رکھنے والی یہ مشرق وسطیٰ میں خواتین کے لیے قائم کیے جانے والے پہلے ذاتی دفاع کے مرکز کی ٹرینر ہیں۔

گوئٹے مالا

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
وسطی امریکی ملک کی خواتین روایتی ملبوسات پہننا پسند کرتی ہیں، جس کا اظہار اس تصویر سے بھی ہوتا ہے۔

برازیل

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں فوٹوگرافر کی ملاقات ان جڑواں بہنوں سے ہوئی اور انہیں معلوم ہوا کہ کوئی ایک اداس یا خوش ہو تو دوسری بھی ویسا ہی محسوس کرتی ہے۔

یوروگوئے

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
جنوبی امریکی ملک سے تعلق رکھنے والی یہ خاتون اپنے ملک کے طرز زندگی سے خوش نہیں اور بیرون ملک منتقل ہونے کی خواہشمند ہیں۔

اٹلی

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
اطالوی شہر میلان سے تعلق رکھنے والی خاتون کی ماں اطالوی جبکہ والد مراکش سے تعلق رکھتے تھے ، میلان کو فیشن کا گڑھ مانا جاتا ہے اور اس خاتون سے متعدد افراد نے ماڈلنگ کے لیے رابطہ کیا مگر انہیں ہائیکنگ سے محبت ہے۔

جارجیا

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
یورپ اور ایشیاءکے سنگم پر موجود ملک جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی سے تعلق رکھنے والی یہ خاتون قانون کی تعلیم حاصل کررہی ہیں اور فوجداری قوانین کی ماہر بننے کا خواب دیکھتی ہیں۔

رومانیہ

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
ماہیلا نوروک تین برسوں سے دنیا بھر میں گھوم رہی ہیں اور یہ تصویر رومانیہ کے دارالحکومت بخارسٹ سے تعلق رکھنے والی خاتون لیولیا کی ہے، جو کہ ماہیلا کا بھی آبائی شہر ہے۔

یونان

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
یہ یونان کے علاقے ڈیلفی سے تعلق رکھنے والی خاتون ہیں جو ایک ریسٹورنٹ میں کام کرتی ہیں، ویسے تو یہ جدید دور کے ملبوسات کا استعمال کرتی ہیں مگر سال میں ایک بار ایسٹر کے موقع پر مقامی روایتی لباس کو پہننا نہیں بھولتیں۔

چیچنیا

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
یہ تصویر چیچنیا کے صدر مقام گرونزی میں لی گئی اور اس میں نظر آنے والی خاتون کا نام لنڈا ہے، چیچنیا میں خواتین جدت اور قدامت کے امتزاج پر مبنی ملبوسات کا استعمال کرتی ہیں اور رنگارنگ اسکارف ان کے سروں پر ہوتے ہیں۔

روس

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
روس کے علاقے Korolyov سے تعلق رکھنے والی ناشتیہ اس چھوٹی سی دکان کے سامنے کھڑی ہیں جہاں وہ پاسپورٹ فوٹوز لینے کا کام کرتی ہیں مگر ان کی خواہش ہے کہ وہ دنیا بھر گھوم کر قدرتی مناظر کی تصاویر لے سکیں۔

سوئیڈن

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
بارش ہی کیوں نہ برس رہی ہو، اسٹاک ہوم کے بیشتر رہائشی سفر کے لیے گاڑی کی بجائے پیدل چلنے یا سائیکل کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں، ان میں سے ایک ایمیلیا بھی ہیں جن کا یہ انداز ماہیلا نوروک کو پسند آگیا اور انہوں نے اسے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرلیا۔

یونان

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
یہ یونان کے سرحدی قصبے آئیڈومینی میں واقع مہاجر کیمپ کی تصویر ہے جس میں ایک تارک وطن اور ایک رضاکار کے درمیان بڑھتی دوستی کے خوبصورت رشتے کو پیش کیا گیا ہے، اس تصویر میں چھوٹی بچی کا تعلق شام سے ہے جبکہ دائیں جانب موجود لڑکی برطانیہ سے یہاں تارکین وطن کی مدد کے لیے آئی ہے۔

سینٹ پیٹرز برگ

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
روس کے علاقے سینٹ پیٹرزبرگ کی ایناستاسیا بیلے ڈانسر ہیں، اپنے بچپن سے ہی وہ بیلے ڈانسر بننے کا خواب دیکھتی تھیں اور دس سال کی عمر میں حیرت انگیز طور پر آڈیشن میں کاماب ہوکر اس شعبے کا حصہ بن گئیں۔

ترکی

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
ماہیلا نوروک کی ملاقات آسیہ سے ترک شہر ازمیر میں ہوئی جہاں وہ اپنے رشتے داروں سے ملنے آئی ہوئی تھی، بنیادی طور پر آسیہ جرمنی سے تعلق رکھتی ہیں، تاہم ان کے آباﺅ اجداد کا تعلق ترکی سے تھا جو جرمنی منتقل ہوگئے تھے۔

یونان

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
یونان سے ایک اور خاتون کاللیوپی کی یہ تصویر ماہیلا نوروک کو ان کے مخصوص روایتی لبادے نے لینے پر مجبور کیا، کاللیوپی کو اس طرح کے ملبوسات کے استعمال کا شوق اپنی دادی سے منتقل ہوا۔

ایتھنز

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
یونانی دارالحکومت ایتھنز سے تعلق رکھنے والی کرسٹینا، جو مشرق و مغرب کے حسن کا امتزاج ہیں۔

شام

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
شام سے تعلق رکھنے والی ماں اور بیٹیاں جو یونان کے قصبے آئیڈومینی میں واقع مہاجر کیمپ میں ہفتوں سے مقیم ہیں۔

کورفو

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
یونانی جزیرے کورفو سے تعلق رکھنے والے راسخ العقیدہ عیسائیوں میں ایسٹر کے موقع پر مقامی رہائشی روایتی ملبوسات میں نظر آتے ہیں، جن میں یہ خاتون بھی شامل ہیں۔

شام

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
شام سے تعلق رکھنے والی کردش خاتون، جو حلب میں اپنا گھر خانہ جنگی کے باعث چھوڑنے پر مجبور ہوئیں اور کافی عرصے تک یونانی قصبے آئیڈومنی میں واقع مہاجر کیمپ میں مقیم رہیں۔

تاجکستان

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے کی ایک مارکیٹ میں سبزی فروخت کرنے والی خاتون، یہ خاتون ازبک ہیں اور ان کا خاندان طویل عرصے سے تاجکستان میں مقیم ہے۔

ایتھوپیا

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والی یہ خاتون مسلمان ہیں جبکہ ان کی بہترین دوست عیسائی ہیں، فوٹوگرافر کے مطابق اس افریقی ملک میں جس چیز نے انہیں متاثر کیا وہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان دوستی کا خوبصورت تعلق تھا۔

امرتسر

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
انڈہن شہر امرتسر گولڈن ٹمپل میں ہر سال لاکھوں افراد آتے ہیں جہاں اکثر سکھ خواتین ایک مخصوص انداز کے ملبوسات، پگڑی، کرپان وغیرہ کے ساتھ آتی ہیں۔

آئس لینڈ

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
یہ تصویر آئس لینڈ کے شہر Thorunn کی ہے، جہاں فوٹوگرافر کو جانے کا موقع فیس بک کی جانب سے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر 6 خواتین کی تصاویر لینے کے حوالے سے ملا ہے، وہاں انہوں نے اس خاتون کو منتخب کیا۔

شمالی کوریا

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
شمالی کوریا ایسا ملک ہے جہاں بہت کم سیاحوں کو جانے کا موقع ملتا ہے، تاہم ماہیلا نوروک اپنے سفر کے دروان وہاں بھی گئیں اور وہاں خواتین کی زندگی کی ایک جھلک اس تصویر میں پیش کی۔

دوشنبے

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
تاجکستان کے دارالحکومت دوشبنے میں لی جانے والی ایک اور تصویر، جس کے بارے میں فوٹوگرافر کا کہنا ہے کہ مسلم خواتین کی تصاویر کے حوالے سے میڈیا میں پیش کیا جانے والا تعصب بالکل غلط ہے۔

ممبئی

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
انڈین شہر ممبئی کے ایک ریلوے اسٹیشن پر لی جانے والی اس تصویر میں یہ لڑکی عام طور پر ایسی نظر نہیں آتی، درحقیقت اپنے کالج میں منائے جانے والے دن کے حوالے سے اس طالبہ نے یہ روایتی لباس پہنا ہوا ہے۔

منگولیا

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
چین کے علاقے منگولیا سے تعلق رکھنے والے مورون۔

ایتھوپیا

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
ایتھوپین علاقے Awash سے تعلق رکھنے والی ایک مسلم لڑکی جو ایک مخصوص برادری افار سے تعلق رکھتی ہے، اس برادری کے بیشتر افراد خانہ بدوش ہوتے ہیں جو چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم ہوتے ہیں اور ہر ایک کا اپنا بادشاہ ہوتا ہے۔

نیپال

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں ماں اور بیٹے کا خوبصورت انداز۔

ممبئی

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
ممبئی میں لی جانے والی اس تصویر میں جو لڑکی ہے یہ پارسی برادری سے تعلق رکھتی ہے، یہ برادری اب بھی اپنی قدیم روایات پر عمل کرتی ہے اور تعداد کم ہونے کے باوجود انڈیا کی ترقی کے لیے سرگرم ہے۔

مصر

فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
فوٹو بشکریہ ماہیلا نوروک
مصر سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا عرب ملک ہے جہاں کے مرد و خواتین کے حسن و جمال کی مثال دی جاتی ہے، یہ تصویر قاہرہ سے تعلق رکھنے والی ایک کمپیوٹر انجنیئر کی ہے اور فوٹوگرافر کا کہنا ہے کہ مصری خواتین گرمجوش ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی ثقافت کو سمجھانے میں مہارت رکھتی 

PTI nominates Imran Ismail as Governor of Sindh

Pakistan Tehreek-i-Insaf on Saturday finalised the name of Imran Ismail as the Governor of Sindh after party chairman Imran Khan formally sanctioned his name, DawnNewsTVreported.
"After God, I am thankful to Imran Khan for being nominated the governor," Ismail said following the sanctioning of his candidacy by his namesake. "I have been given a massive responsibility. I will take all the parties together and move forward."
Ismail said that the PTI and MQM-led opposition in Sindh will field their candidates for all the major positions, including the chief minister, speaker and deputy speaker.
"The name of the opposition leader has been decided," he said. "For the rest, we are consulting with MQM and GDA."
When asked if he would reside in the Governor House, Ismail said: "We will follow the party policy. The expenses of Governor House will be reduced."
Most of PTI's 22 seats provincial seats were won in urban centres, but Ismail said that as the governor of the entire province, "urban and rural areas will be equal for me".

Source: https://www.dawn.com/news/1426385/pti-nominates-imran-ismail-as-governor-of-sindh

Turkish lira hammered again as crisis spills into Asian markets

Asian markets tumbled and the Turkish lira dived almost eight per cent on Monday on fears that the economic crisis gripping Turkey could spill over into the global economy.
With investors already on edge over the China-United States (US) trade war, the lira's collapse sparked a sell-off in Europe and New York at the end of last week, with safe-haven assets including the Japanese yen and Swiss franc rallying.
The lira dived to a record low of 7.2362 to the US dollar at one point overnight before recovering slightly after the country's finance minister said Ankara was planning to roll out an “action plan” on Monday in response to the crisis.
That was followed by the central bank saying it was ready to take “all necessary measures” to ensure financial stability, easing reserve requirements for lenders and promising to provide them with liquidity.
“Our institutions will take necessary action from Monday in order to relieve the markets,” Berat Albayrak said, adding that the plan would centre on “the state of our banks and the small and medium size enterprises” most affected by the lira's plunge.
The lira has been hammered this year, having started January at around 3.70 to the dollar according to Bloomberg data, while it is also sharply down against the euro.
However, the European unit was taking a hit against the greenback on worries about the possible impact on some European banks, including Spain's BBVA, Italy's UniCredit and France's BNP Paribas.
Despite the tumult, President Tayyip Erdogan remains in a combative mood, calling the rout a “political, underhand plot” against Turkey.
The crisis has been sparked by a series of issues including a faltering economy — the central bank has defied market calls for rate hikes — and tensions with the US, which has hit Turkey with sanctions over its detention of an American pastor.
Ankara has also hit out at Washington's cooperation with Syrian Kurdish militia in the fight against the militant Islamic State group.

Vulnerabilities

“The decline in the lira is multifaceted, caused not only by a weak external position in terms of current account deficit and inadequate currency reserves but also the challenging political environment which exacerbates the vulnerabilities in the lira,” said Kerry Craig, global market strategist at JP Morgan Asset Management.
“A mid-meeting rate hike and tightening of monetary policy may help to avert the lira's decline, to some extent.”
As well as the lira, emerging market and other high-yielding currencies tumbled across the board.
The Russian ruble, already under pressure after the US hit Moscow with sanctions last week, lost two per cent, while the South African rand was battered seven per cent.
South Korea's won and the Australian dollar retreated 0.4 per cent and the Indonesian rupiah lost 0.9 per cent and is at its weakest level since October 2015.
The Indian rupee hit a new low of 69.62, extending a recent sell-off with high crude prices also squeezing the unit as India is a net importer of oil.
The yen, a go-to unit in times of turmoil, rose against the dollar, while the Swiss franc was also higher.
“The dominating theme of this week is likely to be the Turkish situation,” Okasan Online Securities said in a note to clients.
“The 'Turkey shock' from last weekend, triggered by sharp plunges of the lira, has fuelled fears that it may impact financial institutions in Europe,” it said.
On equity markets, Hong Kong shed 1.4 per cent in late trade and Shanghai finished 0.3 per cent lower, while Tokyo dropped two per cent with exporters hurt by the stronger yen.
Sydney fell 0.4 per cent, Singapore was 0.8 per cent lower and Seoul shed 1.5 per cent. There were also sharp losses in Taipei, Manila and Jakarta, which dived 3.3 per cent after Indonesia reported on Friday its biggest current account deficit in about four years.
In early European trade London and Paris each slipped 0.2 per cent, while Frankfurt was 0.6 per cent lower.
The sharp losses come despite the fact Turkey accounts for just one per cent of the world economy, meaning there is little risk to the world economy or even the eurozone.

Source: https://www.dawn.com/news/1426770/turkish-lira-hammered-again-as-crisis-spills-into-asian-markets

PTI's NA tally up to 158 as it bags 33 reserved seats

The Pakistan Tehreek-i-Insaf (PTI) have been allotted 33 of the total 70 National Assembly seats reserved for women and minorities, taking the party's total in the lower house of the parliament to 158 — just 14 shy of the number required for simple majority.
The Election Commission of Pakistan on Saturday distributed the reserved seats among the parties as per the quotas that their respective electoral performances commanded.
As expected, the PTI emerged as the biggest beneficiary after the distribution, thanks to the 116 seats its candidates had won themselves and the nine independents whom it had later recruited.
In all, the Imran Khan-led party was allotted 16 reserved seats for women from Punjab, four from Sindh, seven from Khyber Pakhtunkhwa and one from Balochistan.
The party, which looks set to form its government in the Centre, also bagged five of the total 10 seats reserved for non-Muslims. Of the rest of the five, two have been given to the PML-N, two to PPP and one to MMA.
The PML-N, meanwhile, has added 15 reserved seats for women from Punjab and just one from KP, which, when added to their two non-Muslim seats, brings their total gains to 18.
Their total in the NA now stands at 82.
PPPP, meanwhile, have added a total of nine women's seats and the two aforementioned non-Muslims seats to their 42 general seats. They now have 53 seats in the lower house.
PTI's current tally of 158, however, is likely to be trimmed as Khan, who won on five NA seats in the July 25 polls, will have to vacate four of them.
Ghulam Sarwar Khan and Tahir Sadiq also won two national and one provincial assembly seats each for the soon-to-be ruling party. Depending on which seats the duo end up keeping, the PTI's NA tally will be reduced by two to four more seats.
Moreover, PML-Q, a key PTI ally, is also likely to see its quartet of NA seats reduced by half as their party leader Chaudhry Pervaiz Elahi is a candidate for the Punjab Assembly speaker's role.
If Elahi is to vie for the provincial speaker's gig, he will have to leave both of his National Assembly seats, which would see the PTI and their alliance's seat count regress some more.

ECP issues notifications of 33 reserved seats

Following the aforesaid allocation, the ECP issued notifications for reserved seats for women from the national and the four provincial assemblies.
The PTI's Shireen Mazari and Andleeb Abbas headlined a list of PTI female leaders whose notifications were issued.
From PML-N, part spokesperson Marriyum Aurangzeb, Maiza Hameed and Tahira Aurangzaib are among the lawmakers who have been issued their notifications for reserved seats.
PPPP's Shazia Marri, Naz Baloch and Hina Rabbani Khar have also joined the list of MNAs-elect.

Source: https://www.dawn.com/news/1426386/ptis-na-tally-up-to-158-as-it-bags-33-reserved-seats

نوکری کو لات مار کر خوبصورتی کی تلاش

نوکری کو لات مار کر خوبصورتی کی تلاش فیصل ظفر  اور  عاطف راجہ رومانیہ سے تعلق رکھنے والی فوٹوگرافر ماہیلا نوروک نے اپنی ملازمت کو لات ...